گدگ 26 جنوری (ایس اونیوز) ریاست کرناٹک کے ضلع گدگ کے نرگند میں ایک مسلم نوجوان سمیرشاہ پور کو شہید کرنے اور اس کے دوست شمشیر خان کے پیٹھ پر چاقو گھونپ کرقتل کرنے کے کوشش کرنے کی واردات کے بعد بنگلور سے جماعت اسلامی ہند (کرناٹک)، جمعیۃ العلماء ہند (کرناٹک)، کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ اور اے پی سی آر(کرناٹک) کے ذمہ داران پر مشتمل ایک وفد نے نرگند کا دورہ کیا اور شہید نوجوان کے گھر پہنچ کر اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی اوراُن کی ہمت بندھاتے ہوئے صبر وتحمل سے کام لینے کی تلقین کی۔ اس موقع پر شہید نوجوان کے والد کو جماعت اسلامی ہند کی طرف سے پچاس ہزار روپیہ اور جمعیۃ العلماء ہند کی طرف سے پچاس ہزار روپیہ کا مالی تعاون پیش کیا گیا۔
یاد رہے کہ 17 جنوری کی شام کو نرگند میں سمیر شاہ پور (19) پرمُبینہ بجرنگ دل کے کارکنوں سمیت دیگرشدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے دھاردار آلات سے حملہ کیا تھا، اگلے روز 18 جنوری کو سمیر ہبلی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا تھا جبکہ اس کے دوست شمشیر خان (21) کے پیٹھ پر بھی چاقو گھونپا گیا تھا، جس کو شدید زخمی حالت میں ہبلی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں پولس نے چار لوگوں کو مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا ہے۔
وفد نے سمیر کے والد اور اس کے دو بھائیوں سمیت دیگر رشتہ داروں سے ملاقات کرنے کے ساتھ ساتھ شمشیر خان کے مکان پر پہنچ کر شمشیر خان اور اس کے والد ناصر خان ودیگر اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اور تفصیلات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد مالی تعاون کے طور پرجماعت اسلامی ہند کی طرف سے پچیس ہزارروپیہ اور جمیعۃ العلماء ہند کی طرف سے 25 ہزار روپیہ کی امداد فراہم کی۔
اس موقع پر گھروالوں سمیت علاقہ کے ذمہ داران سے واردات کے متعلق گفتگو کرنے پر پتہ چلا کہ واردات کے بعد نہ علاقہ کے ایم ایل اے نے ان دونوں کے گھر پہنچ کرتعزیت یا مزاج پرسی کی، نہ تحصیلدار، نہ کمشنر، نہ پولس انسپکٹر نے گھر پہنچ کر حالات کو جاننے کی کوشش کی۔ لوگوں نے بتایا کہ سرکار کی طرف امداد تو دور کی بات کسی نے واردات پر مذمتی بیان تک نہیں دیا۔ گھر والوں نے بتایا کہ شمشیر خان ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا ہے، اس کے سینے میں ہنوز درد ہے، وہ اُٹھ کر بیٹھنے کے قابل نہیں ہوا ہے، مگر کووڈ مریض زیادہ ہونے کے نام پراُسے اسپتال سے ڈسچارج کرکے گھر بھیجا گیا ہے۔
وفد میں موجود اے پی سی آر (کرناٹک) کے سکریٹری ایڈوکیٹ محمد نیاز نے گھر والوں سمیت مقامی ذمہ داران سے کیس کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے کے بعد اُنہیں کئی مفید مشوروں سے نوازا اور بتایا کہ متاثرین کو اے پی سی آر کی طرف سے تمام قانونی امداد فراہم کی جائےگی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی ہو۔
گدگ کے نرگند میں معصوم اور بے قصور مسلم نوجوانوں پرشرپسندوں کی طرف سے قاتلانہ حملہ کرنے پربنگلور سے تشریف فرما وفد میں شامل جماعت اسلامی ہند (کرناٹک) کے نائب صدر مولانا محمد یوسف کنّی، جمعیۃ العلماء ہند (کرناٹک) کے سکریٹری مولانا تنویر احمد شریف، کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ کے سکریٹری سید محمد اقبال اور اے پی سی آر (کرناٹک) سکریٹری ایڈوکیٹ محمد نیازنے سخت تشویش کا اظہار کیا، اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ اتنی بڑی واردات ہونے کے باوجود ضلع یا تعلقہ انتظامیہ کے کسی آفسر نے ان کے گھر پہنچ کر گھروالوں سے بات چیت تک نہیں کی۔ ذمہ داران نے سرکارسے مطالبہ کیا کہ شہید نوجوان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے اُنہیں سخت سزا دی جائے، ساتھ ساتھ اشتعال انگیز بیانات دینے والے بجرنگ دل لیڈران سمیت دیگر اراکین کو بھی گرفتار کرکے اُن کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔ وفد کے ذمہ داران نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ انتظامیہ ایسے اقدامات کرے اوراس بات کو یقینی بنائے کہ اس طرح کی واردات مزید نہ ہونے پائے اور شرپسندوں کے خلاف ایسے سختی سے نپٹا جائے کہ وہ دوبارہ ایسی ہمت نہ کرپائے۔ موقع پر موجود نرگند انجمن کے صدر سکندر خان نے شہید نوجوان کے ورثاء کو 25 لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
بنگلور سے مختلف مسلم اداروں کے ذمہ داران پر مشتمل وفد کے نرگند پہنچنے پر جماعت اسلامی ہند (دھارواڑ زون) کے جناب کے آئی شیخ، محکمہ اوقاف کےذمہ داران ابراہیم مُلّا، آصف مُلّا، نرگند انجمن کے صدرسکندر خان، سکریٹری نائیکر صاب، علماء کرام میں مفتی عارف دھارواڑ، مولانا شمس الدین، مولانا نظام الدین، مولانا عبدالغفور پلید، نثار احمد قاضی اوراے پی سی آر گدگ کے صدر عبدالمناف مُنّا کلمنی سمیت کافی دیگر ذمہ داران موجود تھے۔
وفد نے گدگ ایس پی سے ملاقات کرنے کی کوشش کی مگر پتہ چلا کہ اُنہیں کووڈ ہوا ہے اوروہ گھر پر ہی کورنٹائن میں ہے۔